حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں خطاب کرتے ہوئے استاد اخلاق حوزہ علمیہ استاد محمد باقر تحریری نے کہا کہ انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں، خواہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو، خاندان سے یا معاشرے سے، ہمیشہ خیر اور بھلائی کے راستے پر چلنا چاہیے اور آخرت کی کامیابی کو اپنے اعمال کا معیار بنانا چاہیے۔
مدرسہ علمیہ مروی تہران کے سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین محمد باقر تحریری نے مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ کوثر کی آیت «إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ» کی تشریح کی اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بلند مقام و مرتبے پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس خیر کثیر کا مصداق ہیں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمایا۔ آپ کی شخصیت اور سیرت کے مختلف پہلوؤں کو پہچاننا امت مسلمہ کے لیے ایک قیمتی موقع ہے، تاکہ آپ کی تعلیمات اور عملی زندگی سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔
استاد اخلاق حوزہ علمیہ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ایک دعا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دعا میں آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتی ہیں کہ اگر زندگی میرے حق میں بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ اور اگر وفات میرے لیے بہتر ہے تو مجھے وفات عطا فرما۔ یہ دعا اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ انسان ہر حال میں اپنی حقیقی بھلائی اور آخرت کی سعادت کو پیش نظر رکھے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و بردباری سے متعلق ایک روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص سخت لہجے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کی نبوت کی نشانی طلب کی، لیکن آپ نے اس کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے ہوئے اسے اسلام کی دعوت دی اور ہدایت کا راستہ دکھایا۔
انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کو اس شخص کو قرآن سکھانے اور اس کی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اسی موقع پر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنا عمامہ بھی اسے عطا کر دیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین تحریری نے روایت کے ایک اور حصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب سلمان فارسی اس شخص کے لیے کھانے کا انتظام کرنے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پہنچے تو وہاں کھانے کے لیے کچھ موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ایک ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس بھیجنا پسند نہیں کیا اور اپنا چادر ایک یہودی کے پاس گروی رکھ کر اس کے بدلے جو اور گندم حاصل کیا، پھر کھانا تیار کرکے اس شخص کو پیش کیا۔
ان کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس ایثار اور زہد کو دیکھ کر وہ یہودی بھی متاثر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ خود تنگ دستی کے باوجود دوسروں کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کرتی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کی مدد صرف مالی تعاون تک محدود نہیں ہے، بلکہ جو شخص خود مالی مدد کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے کوشش کرتا ہے یا دوسروں کو نیکی کے کام پر آمادہ کرتا ہے، وہ بھی اس نیکی کے ثواب میں شریک ہوتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان ہر حال اور ہر مشکل میں نیکی کے راستے پر قدم بڑھا سکتا ہے اور معاشرے کی مادی و معنوی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے خیر خواہی، ہمدردی اور باہمی تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ